برکت کو سمجھنے کی ایک مثال

The truth will out
November 5, 2017
Your journey is yours alone
November 5, 2017

برکت کو سمجھنے کی ایک مثال

برکت کو سمجھنے کے لیے ایک مثال
ایک شخص نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کتے بیک وقت سات سات بچنے جنتے ہیں جبکہ بھیڑ بکریاں بیک وقت ایک یا دویا پھر کبھی تین بچے جنتے ہیں اس کے باوجود بھیڑ بکریوں کی تعداد ہر جگہ کتوں سے زیادہ ہوتی ہے حلانکہ ہم آئے روز بھیڑ بکریوں کو ذبح بھی کرتے ہیں قربانی کرتے ہیں پھر بھی وہ ہمیشہ کتوں سے زیادہ ہوتی ہیں!!
علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
یہی چیز برکت ہے۔
اس شخص نے کہا: برکت بھیڑ بکریوں میں ہی کیوں ہے کتوں میں کیوں نہیں؟
فرمایا: بھیڑ بکریاں رات کے شروع میں سوتی ہیں اور رحمت(فجر) کے وقت جاگتی ہیں تو برکت کو پالیتی ہیں مگر کتے ساری رات بھونک کر فجر کے قریب سوجاتے ہیں اور رحمت اور برکت سے محروم ہو جاتے ہیں۔۔۔میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ رات کو جلد سو اور صبح جلدی اٹھو یہی رزق اور اولاد میں برکت کا ذریعہ ہے۔…

Rate this post
Pocket
Share on LinkedIn

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *